سود کی رقم کہاں دی جا سکتی ہے؟
سود کی رقم کہاں دی جا سکتی ہے؟
سوال: کیا سود کی رقم دینے کے لیے کوئی مخصوص مصارف مقرر ہیں؟ کیا سود کی رقم ایسے اسلامی منصوبوں کی مدد کے لیے دی جا سکتی ہے جو باقاعدہ “چیریٹی سیکٹر” میں نہیں آتے، مثلاً اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والی تنظیمیں وغیرہ؟
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سود کی رقم کی شرعی حیثیت کیا ہے، کیونکہ “سود کہاں دیا جائے” کا حکم اس بات پر موقوف ہے کہ:
- کیا سود لینے والا اس رقم کا مالک بنتا ہے یا نہیں؟
- جب خود نہیں رکھ سکتا تو آیا تملیک ضروری ہے یا نہیں؟
یہ بات واضح ہے کہ سود قرآن و سنت کی روشنی میں سخت حرام ہے۔ مزید یہ کہ فقہاء نے بیان کیا ہے کہ سود پر مبنی معاملات شرعاً درست نہیں ہوتے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص سود کی رقم لے بھی لے تو وہ اس رقم کا مالک نہیں بنتا، بلکہ اس رقم کی ملکیت اصل دینے والے ہی کی رہتی ہے، اور لینے والے کے لیے یہ مالِ خبیث شمار ہوتا ہے۔
قال ابن نجيم: وأما في البيع، فمتباينان فباطله ما لا يكون مشروعا بأصله ووصفه، وفاسده ما كان مشروعا بأصله دون وصفه، وحكم الأول أنه لا يملك بالقبض، وحكم الثاني أنه يملك به (الأشباه والنظائر: 1/291)
وقال: وكتب ركن الدين الزنجاني: الإبراء لا يعمل في الربا؛ لأن رده لحق الشرع (الأشباه والنظائر: 6/136)
وقال المرغيناني وابن الهمام: (وللمستودع) بفتح الدال (والغاصب وصاحب الربا أن يقطعوا السارق منهم) أي إذا سرق الوديعة أو المال المغصوب، وأما صاحب الربا فكالمشتري عشرة بخمسة إذا قبض العشرة فسرقها سارق قطع بخصومته لأن هذا المال في يده بمنزلة المغصوب (الهداية مع فتح القدير: 5/401)
وقال ابن عابدين: واعلم أن ظاهر كلامه أي المصنف يفيد أنه يقطع بخصومة معطي الربا دون صاحب الربا؛ لأن المال في يده بمنزلة المغصوب كما مر. قال في الفتح للمغصوب منه الخصومة إلا أن المسطور في السراج أنه لا يقطع بخصومة صاحب الربا؛ لأنه لا ملك له فيه ولا يد وتبعه الشمني ولم أر من نبه عليه فتدبره. اهـ.
أقول: قد صرح في الأشباه عن القنية أن الربا لا يملك فيجب عليه رد عينه ما دام قائما حتى لو أبرأه صاحبه لا يبرأ منه؛ لأن رد عينه القائمة حق الشرع وعلى هذا فلصاحبه ملك قائم فيه وللآخر يد؛ لأنه إذا قبضه برضا صاحبه صار كالمودع (منحة الخالق على البحر الرائق: 5/68)
وقال: في الأشباه من أن الربا لا يملك فيجب عليه رد عينه مادام قائما، حتى لو أبرأه صاحبه لا يبرأ منه؛ لأن رد عينه القائمة حق الشرع. اهـ. وبه علم أن صاحب الربا في عبارة المصنف وهو الذي قبضه لم يملكه بل بقي على ملك المعطي فصار المعطي مالكا والقابض ذا يد (رد المحتار: 4/107)
اوپر کی عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام مال کو اس کے اصل مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، بشرطیکہ اصل مالک معلوم ہو اور واپس کرنا ممکن ہو۔ اگرچہ دینے والے نے بظاہر رضامندی سے دیا ہو، پھر بھی اس رقم کو واپس کرنا “حقِ شرع” ہے، اس لیے اسے لوٹانا لازم ہے۔
لیکن اکثر صورتوں میں (خاص طور پر بینک کے سود میں) یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس رقم کا اصل مالک کون ہے۔
جب اصل مالک معلوم نہ ہو تو فقہاء نے فرمایا ہے کہ ایسی رقم کو اپنے پاس رکھنا اور استعمال کرنا درست نہیں۔ لہٰذا اس سے تخلص کرنا ضروری ہے، یعنی اس رقم کو اپنے مال سے نکال دینا۔
یہاں مقصد صدقہ کرکے ثواب کمانا نہیں ہوتا، بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ذمے سے حرام مال کی ذمہ داری ختم کرے (تفريغ الذمة)۔ اسی لیے فقہاء نے واضح کیا ہے کہ ایسی رقم دیتے وقت ثواب کی نیت نہ کی جائے۔
قال ابن مازه البخاري: والسبيل في المعاصي ردها، ولذلك ههنا يرد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه، وبالتصدق منه إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله (المحيط البرهاني: 5/358)
وقال الزيلعي: لو مات رجل، وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذوا منه شيئا، وهو أولى لهم، ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (تبيين الحقائق: 6/27)
وقال ابن الهمام: ثم إذا أخذ الهدية في موضع لا يباح أخذها قيل يضعها في بيت المال لأنها بسبب عمله لهم وعامتهم على أنه يردها على أربابها إن عرفهم، وإليه أشار في السير الكبير، وإن لم يعرفهم أو كانوا بعيدا حتى تعذر الرد ففي بيت المال ويكون حكمها حكم اللقطة (فتح القدير: 7/272)
وقال ابن عابدين: إذا علم أن كسب مورثه حرام يحل له، لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه، وهذا معنى قوله وقيده في الظهيرية إلخ، وفي منية المفتي: مات رجل ويعلم الوارث أن أباه كان يكسب من حيث لا يحل ولكن لا يعلم الطلب بعينه ليرد عليه حل له الإرث والأفضل أن يتورع ويتصدق بنية خصماء أبيه. اهـ وكذا لا يحل إذا علم عين الغصب مثلا وإن لم يعلم مالكه، لما في البزازية أخذه مورثه رشوة أو ظلما، إن علم ذلك بعينه لا يحل له أخذه، وإلا فله أخذه حكما أما في الديانة فيتصدق به بنية إرضاء الخصماء اهـ. والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه (رد المحتار: 5/99)
وقال الشرنبلالي المتوفى سنة في رسالته ((حفظ الأصغرين عن اعتقاد من زعم أن الحرام لا يتعدى إلى ذمتين)): لا يقصد به تحصيل الثواب، بل تفريغ الذمة.
اگرچہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ حرام رقم کو اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ واجب التصدق ہے، لیکن فقہاء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا اس کے نکالنے میں تملیک ضروری ہے یا نہیں۔
یہاں اختلاف اس وجہ سے ہوا کہ فقہاء نے لفظ تصدق استعمال کیا ہے اور فقہ کی کتابوں میں “صدقہ” کا لفظ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے:
(الف) صدقہ بمعنی “تملیک” (صدقہ واجبہ)
یعنی وہ صدقات جو ضروری ہیں جیسے زکوٰۃ، صدقۃ الفطر وغیرہ۔ اس قسم کے صدقہ میں تملیک ضروری ہوتی ہے، یعنی کسی شخص کو اس مال کا مالک بنانا لازمی ہے۔ اسی لیے زکوٰۃ وغیرہ مسجد، کنواں، تعمیرات وغیرہ میں نہیں لگائی جا سکتیں۔
قال المرغيناني (المتوفى: 593هـ): الصدقة تنبئ عن التمليك (الهداية مع فتح القدير: 41/3).
وقال ابن الهمام (المتوفى: 861هـ): وحقيقة الصدقة تمليك المال من الفقير (فتح القدير: 267/2)
وقال السمرقندي: ولو صرف الزكاة إلى بناء المسجد والرباطات وإصلاح القناطر وتكفين الموتى ودفنهم لا يجوز لأنه لم يوجد التمليك (تحفة الفقهاء: 1/307)
(ب) صدقہ بمعنی عام خیرات و نفعِ عام
بعض جگہ “صدقہ” کا لفظ وسیع معنی میں بھی آتا ہے، یعنی ہر وہ کام جس میں لوگوں کا فائدہ ہو، جیسے مسجد بنانا، کنواں بنانا، رفاہی منصوبے، ضرورت مندوں کی مدد وغیرہ۔
سود کی رقم دینے کا مقصد یہ نہیں کہ آدمی ثواب کمانے کے لیے صدقہ کرے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے پاس موجود ناجائز رقم سے نکل جائے (تفريغ الذمة)، کیونکہ حقیقت میں یہ رقم اس کی ملکیت نہیں ہوتی۔
اصل حکم یہ ہے کہ یہ رقم اصل مالک کو واپس کی جائے۔ لیکن جب اصل مالک معلوم نہ ہو، اور نہ ہی رقم ضائع کی جا سکتی ہو، تو فقہاء نے فرمایا کہ یہ رقم “صدقہ” کے طور پر دے دی جائے۔ یہ حکم اس بنا پر ہے کہ ایسی رقم کو لقطہ کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔
قال ابن الهمام: ثم إذا أخذ الهدية في موضع لا يباح أخذها قيل يضعها في بيت المال لأنها بسبب عمله لهم وعامتهم على أنه يردها على أربابها إن عرفهم، وإليه أشار في السير الكبير، وإن لم يعرفهم أو كانوا بعيدا حتى تعذر الرد ففي بيت المال ويكون حكمها حكم اللقطة (فتح القدير: 7/272)
وقال ابن نجيم: عرفها (أي اللقطة) في التتارخانية معزيا إلى المضمرات بأنها مال يوجد ولا يعرف له مالك وليس بمباح (البحر الرائق: 5/161)
قال العبد الضعيف: التعريف للقطة الذي عزي إلى المضمرات ينطبق على الربا المكتسب في حساب البنك، لأن المالك الأصلي لا يُعرف والربا ليس بمباح، فلذا اعتبر الربا كاللقطة.
چونکہ مالِ خبیث کو فقہاء نے لقطہ کے مشابہ قرار دیا ہے، اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ جب لقطہ بیت المال میں جمع ہو جائے تو اس کے مصارف کیا ہیں۔
اس بارے میں فقہاء نے وضاحت کی ہے کہ بیت المال میں آنے والی آمدنی کے مختلف ذرائع ہوتے ہیں، اور ہر ذریعے سے حاصل ہونے والا مال مختلف اجتماعی ضروریات پر خرچ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم صرف فقراء اور ان لوگوں کو دی جا سکتی ہے جو زکوٰۃ کے مستحق ہوں۔
اسی وجہ سے فقہاء نے بیان کیا ہے کہ بیت المال کے اموال کو ان کے ماخذ (یعنی وہ کس ذریعے سے بیت المال میں آئے ہیں) کی بنیاد پر چار الگ حصوں (“پوٹ”) میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ ہر حصے کے لیے خرچ کی الگ الگ مصارف مقرر ہیں:
- زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ
- مالِ غنیمت، اور رکاز اور معادن سے لیا جانے والا “زکوٰۃ کے مشابہ” مال
- خراج
-
بے وارث ترکے کا غیر مطالبہ شدہ مال اور لقطہ بھی اسی حصے میں شامل ہے۔
جہاں تک تیسرے حصے یعنی خراج کا تعلق ہے، فقہاء نے واضح طور پر لکھا ہے کہ اسے ہر اس کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے جس سے مسلمانوں کی مدد ہو اور پوری جماعت کو فائدہ پہنچے۔ چنانچہ اس مال کو مساجد کی تعمیر، قاضیوں کی تنخواہوں، علماء کی معاونت، اور فوج کے اخراجات پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اسے عوامی منصوبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے پل بنانا، سڑکیں تعمیر کرنا اور دیگر ایسے کام جو اجتماعی فائدے کے لیے ہوں۔
قال الكاساني: وأما ما يوضع في بيت المال من الأموال فأربعة أنواع: أحدها زكاة السوائم، والعشور وما أخذه العشار من تجار المسلمين إذا مروا عليهم، والثاني خمس الغنائم، والمعادن، والركاز، والثالث خراج الأراضي …والرابع ما أخذ من تركة الميت الذي مات ولم يترك وارثا أصلا، أو ترك زوجا، أو زوجة.
وأما مصارف هذه الأنواع، فأما مصرف النوع الأول فقد ذكرناه….وأما مصرف النوع الثالث من الخراج وأخواته فعمارة الدين، وإصلاح مصالح المسلمين وهو رزق الولاة، والقضاة وأهل الفتوى من العلماء، والمقاتلة، ورصد الطرق، وعمارة المساجد، والرباطات، والقناطر، والجسور، وسد الثغور، وإصلاح الأنهار التي لا ملك لأحد فيها.
وقال ابن نجيم: وعلى الإمام أن يجعل لكل نوع من هذه الأنواع بيتا يخصه فلا يخلط بعضه ببعض لأن لكل نوع حكما يختص به (البحر الرائق: 5/128)
جہاں تک چوتھے حصے کا تعلق ہے، اس بارے میں فقہاء کے درمیان کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فقہی کتب میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس حصے کا مال صرف فقراء پر ہی خرچ کیا جائے گا۔ اس رائے کو امام سرخسی، امام کاسانی اور دیگر فقہاء سے نقل کیا گیا ہے۔
قال السرخسي: والنوع الرابع تركة من لا وارث له من المسلمين، أو من يرثه الزوج، أو الزوجة فقط فإن الباقي مصروف إلى بيت المال، وما يوجد من اللقطة إذا لم يعرفها أحد فهو موضوع في هذا النوع من بيت المال، ومصروف هذا النوع نفقة اللقيط وتكفين من يموت من المسلمين، ولا مال له (المبسوط: 3/18)
وقال الكاساني: وأما النوع الرابع فيصرف إلى دواء الفقراء، والمرضى وعلاجهم، وإلى أكفان الموتى الذين لا مال لهم، وإلى نفقة اللقيط وعقل جنايته، وإلى نفقة من هو عاجز عن الكسب وليس له من تجب عليه نفقته ونحو ذلك وعلى الإمام صرف هذه الحقوق إلى مستحقيها (بدائع الصنائع: 69/2)
وقال ابن عابدين في مصارف بيت المال: وأما الرابع (اللقطات) فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره. وحاصله أن مصرفه العاجزون الفقراء فلو ذكر الناظم الرابع مكان الثالث ثم قال وثالثها حواه عاجزونا ورابعها فمصرفه إلخ ليوافق ما في عامة الكتب. (رد المحتار: 338/2)
وقال الشرنبلالي في رسالته: إذا علمت أن الخبيث واجب التصدق، فلا يأخذه إلا من يجوز له أخذ الصدقة.
وقال النسفي وابن نجيم في بحث اللقطة إذا تعذر الرد إلى المالك: (قوله ثم تصدق) أي إن لم يجئ صاحبها فله أن يتصدق بها على الفقراء إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض وهو الثواب على اعتبار إجازته التصدق بها (البحر الرائق: 5/165)
چونکہ یہاں “صدقہ” کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس لیے بعض فقہاء نے اس کو صدقہ واجبہ کی طرح سمجھا اور فرمایا کہ اس میں بھی تملیک ضروری ہے۔ لہٰذا ایسی رقم صرف فقراء کو دی جائے، اور اسے عام رفاہی کاموں میں براہِ راست استعمال نہ کیا جائے۔ حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ نے اس پر فتویٰ دیا۔
انظر ما كتبه في إمداد المفتين: 382/2. وانظر فتاوى زكريا (6/395-422)
اس کے برعکس، بعض دیگر فقہاء کی رائے یہ ہے کہ چوتھا حصہ تیسرے حصے کی طرح ہے، اس لیے اسے ہر اُس اجتماعی اور عوامی کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے جس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچے۔ یہ رائے قاضی خان، ابن مازہ، بزدوی، اور ابن الشحنہ کی ہے۔
ابن مازہ نے اپنی کتاب المحیط میں ایک اہم نکتہ ذکر کیا ہے کہ چوتھے حصے کے مصارف تیسرے حصے جیسے ہی ہیں، اس لیے اسے عوامی خدمات اور اجتماعی فائدے کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ليكن اس مال کو الگ حصہ کے طور پر برقرار رکھا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ بعد میں اس مال کا اصل مالک سامنے آ جائے اور اس کا مطالبہ کرے۔
قال قاضيخان: وبيت الأموال الضائعة نحو التركات التي لا وارث لها يصرف ذلك إلى عمارة القناطر والطرق والرباطات التي لا وقف لها (فتاوى قاضيخان: 3/369)
وقال ابن مازه: اللقطات والتركات تصرف إلى ما فيه صلاح المسلمين كمال الخراج والجزية، إلا أنه يجعل لها بيت على حدة، لما ذكرنا أنه ربما يظهر لها مستحق بعينها (المحيط البرهاني: 2/368)
ونظم ابن الشحنة مصارف بيوت المال، فقال:
بيوت المال أربعة لكل … مصارف بينتها العالمونا
فأولها الغنائم والكنوز … ركاز بعدها المتصدقونا
وثالثها خراج مع عشور … وجالية يليها العاملونا
ورابعها الضوائع مثل ما لا … يكون له أناس وارثونا
فمصرف الأولين أتى بنص … وثالثها حواه مقاتلونا
ورابعها فمصرفه جهات … تساوى النفع فيها المسلمونا
قال العبد الضعيف: فأفاد ابن الشحنة في هذا النظم أن الضوائع، جمع ضائعة أي اللقطات، مصرفها جهات تنفع المسلمين، ولم يقيدها بالفقراء، لكن قال ابن عابدين: موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك. اهـ. ولكنه مخالف لما في الهداية والزيلعي أفاده الشرنبلالي أي فإن الذي في الهداية وعامة الكتب أن الذي يصرف في مصالح المسلمين هو الثالث كما مر. (رد المحتار: 338/2)
شیخ الاسلام حضرت مفتی تقي عثمانی صاحب فرماتےہیں: ملک خبیث کا واجب التملیک ہونا فقہائے مذہب کی کتابوں میں کہیں صراحت کے ساتھ نہیں، بلکہ اس پر لفظ تصدق سے استدلال کیا گیا ہے کے چونکہ صدقہ عموماً تمليكًا ہوتا ہے اسلئے ملک خبیث کو بھی واجب التملیک سمجھا گیا، حالانکہ خاص طور پر صدقہ نافلہ میں لفظ صدقہ کا اطلاق ان وجوہ خیر میں خرچ کرنے پر بھی ہوا ہے جن میں تملیک ضروری نہیں (فتاوى عثماني: 1/133)
حضرت آگے لکھتے ہیں: فقہائے حنفیہ کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کے جو ملک خبیث واجب التصدق ہو وہ مصرف کے لحاظ سے من کل الوجوہ زكاة کی طرح نہیں ہے، بلکہ متعدد جہات سے زکوۃ اور واجب التصدق کے مصرف میں فرق ہے، مثلًا یہ بات تقریبا تمام فقہائے حنفیہ نے بیان فرمائی ہے کہ یہ مال متصدق اپنی بیوی اور اولاد کو بھی دے سکتا ہے –
قال النسفي: وينتفع بها لو فقيرا وإلا تصدق على أجنبي وصح على أبويه وزوجته وولده لو فقراء (تبيين الحقائق: 3/307)
قال الزيلعي: يعني يجوز للملتقط أن ينتفع باللقطة إذا كان فقيرا وإن لم يكن فقيرا لم يجز ويتصدق بها على الفقير أجنبيا كان أو قريبا له أو زوجة له لأنه مال الغير فلا يجوز الانتفاع به بدون رضاء لإطلاق النصوص…إلا أنه أبيح الانتفاع به للفقير بطريق التصدق …فإذا كان المبيح هو الفقر فلا يختلف بين أن يكون الفقير الواجد لها أو غيره من أقاربه أو الأجانب لحصول المقصود بالكل وهو التصدق على محتاج (تبيين الحقائق: 3/307)
وقال الحموي: لو كان غنيًّا لم يحل له ذلك (اي صرف اللفطة على نفسه)، بل يتصدق على الفقير أجنبيًّا ولو زوجة أو قربيًا ولو أصلًا أو فرعًا كما في التنوير. انتهى. (غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر: 3/229)
وعبارة التنوير: فينتفع بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه. (رد المحتار: 4/279)
حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی رائے یہ تھی کہ لقطہ میں تملیک شرط نہیں۔ یعنی اگرچہ واجب التصدق ہے، لیکن یہ “صدقہ واجبہ” کی طرح نہیں ہے۔ علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ بھی اسی طرف مائل تھے۔
نقله العلامة ظهر أحمد التهانوي في إمداد الأحكام (47/3)
وقال العلامة ظفر أحمد التهانوي في إعلاء السنن: وأيضًا فإن بني هاشم إنما لا تحل لهم الزكاة والعشر وصدقة الفطر، وأما ما عدا ذلك من الصدقات النافلة فتحل لهم باتفاق أئمتنا رحمهم الله. واللقطة وإن كانت واجبة التصدق ليست من الصدقات الواجبة، بل مصارفها مصارف الصدقة النافلة حيث جاز أن يتصدق بها على فقير ذمي (إعلاء السنن:)
وقال شيخنا العثماني في تكملة فتح الملهم: ((قال شيخ مشايخنا الأنور رحمه الله في العرف الشذي: إن صدقة اللقطة صدقة نافلة)).
حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اور دیگر اکابر نے یہ نتیجہ نکالا کہ راجح قول یہ ہے کہ تملیک شرط نہیں، لہٰذا یہ رقم عام خیر کے کاموں اور مسلمانوں کے فائدے کے منصوبوں میں بھی لگائی جا سکتی ہے۔
انظر تحقيقه باللغة الأردية في فتاوى عثماني 129/3 ،وكذا المفتي عبد الرحيم اللجبوري، انظر: فتاوى رحيمية: 145/9، وكذا المفتي خالد سيف الله، انظر كتاب الفتاوى: 309/5.
قال العبد الضعيف: فتحصل مما سبق أن بعض مشايخنا لم يروا التمليك واجبًا في اللقطة، ولم يروا الاقتصار على إعطاء الفقير، بل عمموا الحكم وأوجبوا التصدق إيصالًا للثواب إلى أرباب الأموال وتفريغًا للذمة، وهذا حاصل في كل صدقة، سواء تصدق بها على فقير أو على مصالح المسلمين، بل هناك وجه لعدم اعتبار إيصال الثواب أيضًا خاصة في حق الربا المكتسب، وذلك لأن أكثر أرباب الأموال الربوية في الغرب غير مسلمين، ولا يجوز اعتبار نية الثواب عنهم، قال ابن عابدين في بحث إقراض القاضي اللقطة: قيده بعضهم بغير لقطة الذمي فليس للقاضي إقراضها لقوله لا يجوز التصدق بها بل يضعها في بيت المال، لأن الإقراض قربة والذمي ليس من أهل القرب (رد المحتار: 750/6). فعلى هذا، الموجب للتصدق هو تفريغ للذمة فقط.
وأفاد شيخنا العثماني في تحقيقه أن تخصيص مصرف اللقطة والمال الحرام بالفقراء لا يوجد عند المذاهب الثلاثة، قال القرافي المتوفى سنة 684: الأموال المحرمة من الغصوب وغيرها إذا علمت أربابها ردت إليهم وإلا فهي من أموال بيت المال تصرف في مصارفه الأولى فالأولى من الأبواب والأشخاص على ما يقتضيه نظر الصارف من الإمام أو نوابه أو من حصل ذلك عنده من المسلمين فلا تتعين الصدقة قد يكون الغزو أولى في وقت أو بناء جامع او قنطرة فتحرم الصدقة لتعيين غيرها من المصالح وإنما يذكر الأصحاب الصدقة في فتاويهم في هذه الأمور لأنها الغالب وإلا فالأمر – كما ذكرته لك (الذخيرة: 28/6)
وقال النووي: قال الغزالي إذا كان معه مال حرام وأراد التوبة والبراءة منه فإن كان له مالك معين وجب صرفه إليه أو إلى وكيله فإن كان ميتا وجب دفعه إلى وارثه وإن كان لمالك لا يعرفه ويئس من معرفته فينبغي أن يصرفه في مصالح المسلمين العامة كالقناطر والربط والمساجد ومصالح طريق مكة ونحو ذلك مما يشترك المسلمون فيه وإلا فيتصدق به على فقير أو فقراء (الممجموع: 351/9)
جیسا کہ اوپر کی تفصیل سے واضح ہوتا ہے، اس مسئلے میں علماء کی دو آراء پائی جاتی ہیں۔ حضرت مفتی شفیع صاحب اور حضرت مفتی محمود صاحب رحمهما الله اور بعض دیگر علماء کی رائے یہ ہے کہ اسے صرف فقراء کو دینا ضروری ہے۔ اس کے برعکس،حضرت مفتی تقی عثمانی، حضرت مفتی کفایت اللہ، حضرت مفتی فرید صاحب اور دیگر اہلِ علم نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ مالِ خبیث کو ایسے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جن سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچے ۔
لہٰذا اگر اس نوعیت کے منصوبوں کی معاونت کا کوئی اور ذریعہ نہ ہو تو زیادہ گنجائش والی رائے پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
البتہ فقہاء نے مسجد میں ایسی رقم لگانے سے منع فرمایا ہے، تاکہ مسجد کی حرمت و تقدس برقرار رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف پاک مال کو قبول فرماتے ہیں۔
قال ابن عابدين: قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. اهـ. شرنبلالية (رد المحتار: 1/658)
اسي طرح، حضرت مفتی شبیر أحمد صاحب (بليكبرن، برطانية)نے ایک اہم شرط ذکر کی ہے، وہ یہ کہ دینے والا خود اُن مصارف سے ذاتی فائدہ حاصل نہ کرے جن میں وہ یہ رقم دے رہا ہے۔
والله أعلم
إبراهيم بن محمد، ليستر
تصحيح: از حضرت مفتي شبير أحمد صاحب، حضرت مفتي طاهر وادي صاحب.


